ناول: بے گناہ مجرم
باب اول: ایک ادھورا وجود
رضوان ایک ایسے گھر کا چراغ تھا جہاں روشنی کا مطلب صرف کامیابی اور مادی خوشحالی تھا۔ اس کے والد، بشیر صاحب، اپنی ذات میں ایک سخت گیر قانون دان کی طرح تھے، جن کے نزدیک زندگی ایک ریاضی کا سوال تھی جس کا جواب صرف "پیسہ اور رتبہ" تھا۔ رضوان ان کے لیے ایک ایسا سرمایہ تھا جس پر انہیں منافع نہیں مل رہا تھا، اور یہی بات ان کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی خلیج کا سبب بن گئی تھی۔
رضوان روز صبح اپنی پرانی بائیک سٹارٹ کرتا اور شہر کی تپتی سڑکوں پر نکل جاتا۔ وہ ایک ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا تھا تاکہ گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ لیکن شام کو جب وہ تھکا ہارا لوٹتا، تو اس کی تھکن کا استقبال کسی ٹھنڈے پانی کے گلاس سے نہیں بلکہ زہریلے طعنوں سے کیا جاتا۔
"آ گیا میرا 'مزدور' بیٹا؟" بشیر صاحب اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر کہتے۔ "رضوان، تمہاری ڈگری کے پیسے تو میں نے حلال کمائی سے دیے تھے، لیکن تم نے اسے سڑکوں پر رول دیا۔ تمہارے ساتھ والے گھر کا رضوان (ایک ہم نام کزن) دیکھو، وہ کینیڈا سیٹ ہو گیا ہے اور تم ابھی تک پیزا ڈلیور کر رہے ہو۔"
رضوان خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ جاتا۔ اسے لگتا جیسے اس کی ریڑھ کی ہڈی تھکن سے نہیں بلکہ ان جملوں کے بوجھ سے ٹوٹ رہی ہے۔
باب دوم: ذلت کا زہر
رضوان نے کبھی سستی نہیں کی تھی۔ اس نے سینکڑوں کمپنیوں میں اپنی سی وی (CV) بھیجی تھی، لیکن ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملتا: "آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے۔" کوئی یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ تجربہ حاصل کرنے کے لیے کسی ایک جگہ کا دروازہ تو کھلنا چاہیے۔
ایک رات دسترخوان پر خاموشی چھائی ہوئی تھی جب رضوان نے ہمت کر کے کہا، "ابو، میں نے ایک نئی جاب کے لیے انٹرویو دیا ہے، دعا کیجیے گا۔"
بشیر صاحب نے لقمہ توڑتے ہوئے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا، "دعا تو میں تمہاری عقل کے لیے کرتا ہوں رضوان۔ تمہارے اندر وہ 'اسپارک' ہی نہیں ہے جو ایک کامیاب مرد میں ہوتا ہے۔ تم تو دو منٹ کسی کے سامنے ڈھنگ سے بات نہیں کر سکتے۔ تمہاری خاموشی تمہاری بزدلی کی نشانی ہے۔"
رضوان کی ماں، جو ہمیشہ خاموش تماشائی بنی رہتی تھیں، بولیں، "بیٹا، تمہارے ابو تمہارے بھلے کے لیے کہتے ہیں۔ ہمیں باہر لوگوں کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہمارا جوان بیٹا سارا دن سڑکوں پر خوار ہوتا ہے۔ کچھ بڑا سوچو، مرد بنو۔"
رضوان کے حلق میں نوالہ پھنس گیا۔ اسے لگا جیسے وہ اس گھر کا بیٹا نہیں، بلکہ کوئی گناہ ہے جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
باب سوم: وہ آخری شام
منگل کا دن رضوان کی زندگی کا سب سے مشکل دن ثابت ہوا۔ سارا دن تیز بارش ہوتی رہی، اس کی بائیک دو بار خراب ہوئی اور اسے ٹھیک کرواتے ہوئے اس کے پاس موجود جمع پونجی بھی ختم ہو گئی۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کا پورا لباس کیچڑ سے اٹا ہوا تھا اور اسے شدید بخار محسوس ہو رہا تھا۔
ڈرائنگ روم میں مہمان بیٹھے تھے—اس کے تایا اور ان کا "کامیاب" بیٹا۔ رضوان نے چاہا کہ وہ چپکے سے اپنے کمرے میں چلا جائے، لیکن اس کے والد کی نظر اس پر پڑ گئی۔
"ادھر آؤ رضوان!" بشیر صاحب کی آواز میں غصہ تھا۔ "یہ کیا حلیہ ہے؟ کیا تم نے قسم کھا رکھی ہے کہ خاندان بھر میں میری ناک کٹوانی ہے؟ دیکھو اپنے بھائی کو، اس کا سوٹ تمہاری پوری بائیک سے مہنگا ہے، اور تم... تم کسی گٹر سے نکل کر آئے لگ رہے ہو۔"
رضوان وہیں جم گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک عجیب سی خالی جگہ بن گئی تھی۔ تایا کا بیٹا طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔ رضوان کو لگا جیسے اس کی برسوں کی کوشش، اس کی وہ ساری راتیں جو اس نے جاگ کر کام ڈھونڈنے میں گزاری تھیں، سب کی سب ایک لمحے میں مٹی کر دی گئیں۔
"ابو، میں تھک گیا ہوں،" رضوان نے دھیمی آواز میں کہا۔
"تھک گئے ہو؟" باپ نے چیخ کر کہا۔ "تھکتے وہ ہیں جو کام کرتے ہیں، تم تو بس بہانے بناتے ہو۔ جاؤ، میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ تمہاری صورت دیکھ کر مجھے اپنی ناکامی کا احساس ہوتا ہے۔"
باب چہارم: خاموشی کا کتبہ
رضوان اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ بند کر لیا۔ اس نے آئینہ نہیں دیکھا، کیونکہ اسے پتہ تھا کہ وہاں اسے ایک "ناکام مرد" ہی نظر آئے گا۔ اس نے اپنا فون اٹھایا اور سوشل میڈیا پر اپنی آخری تحریر لکھی:
"میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس دنیا کا حصہ بن سکوں جو صرف طاقتوروں کی ہے، لیکن میں ایک انسان تھا، اور میری انسانیت ہی میرا سب سے بڑا جرم بن گئی۔ ابو، آپ ٹھیک کہتے تھے، میں مرد نہیں بن سکا کیونکہ میرے اندر کا بیٹا ابھی زندہ تھا۔ اب وہ مر رہا ہے، تاکہ آپ سکون سے سر اٹھا کر جی سکیں۔"
اس نے وہ پرچی تکیے پر رکھی جس پر لکھا تھا، "کوشش کے باوجود ملی ہوئی ذلت کا بوجھ، قبر کے بوجھ سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔"
اگلی صبح، رضوان کے کمرے سے کوئی آواز نہیں آئی۔ وہ ہمیشہ کے لیے اس خاموشی کا حصہ بن گیا تھا جہاں نہ کوئی طعنہ تھا، نہ کوئی موازنہ اور نہ ہی کوئی "مرد بننے" کا مطالبہ۔ بشیر صاحب اب بھی زندہ تھے، لیکن اب ان کے پاس وہ "بوجھ" نہیں تھا جسے وہ بیٹا کہتے تھے۔ گھر کی دیواریں آج بھی کھڑی تھیں، لیکن ان پر رضوان کی تھکن کی داستان ابدی ہو چکی تھی