Wheshat he Wheshat - 1 in Urdu Love Stories by naazwriter books and stories PDF | Wheshat he Wheshat - 1

Featured Books
Categories
Share

Wheshat he Wheshat - 1

وحشت ہی وحشت
(قسط نمبر 1)
ترکی کی اندھیری رات اور گھنے جنگل سے آتی بھیڑیوں کی آوازوں نے اس بچے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیلا دی تھی۔ وہ جو پہلے ہی سردی کے مارے کانپ رہا تھا،
اپنے پیچھے بھیڑیے کی غراہٹ سن کر بے ہوش ہونے کے در پر تھا، مگر شاید اس کی زندگی بہت لمبی تھی۔ اسے ابھی بدلے بھی تو لینے تھے ، ہر اس انسان سے جس کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہوئی۔ 
اپنے پیچھے بھیڑیے کی آواز سن کر وہ بچہ جیسے ہی پیچھے مڑا، یہ سوچ کر کہ آخری بار اپنے شکار کو دیکھ لے، مگر اپنے سامنے ایک زخمی بھیڑیے کو دیکھ کر اس کا دل نرم پڑ گیا۔ کیونکہ بھیڑیے کی ٹانگ سے خون رس رہا تھا۔ وہ لڑکا جو عمر میں 12 سال کا تھا، اس کی گہری نیلی آنکھیں رات کی سیاہی سے بھی زیادہ تاریک تھیں۔ ان میں ایک خوف تھا جو اس زخمی بھیڑیے کی وجہ سے تھا، مگر اسے تکلیف میں دیکھ کر اس کے دل نے اسے اس بھیڑیے کے قریب جانے پر اکسایا۔ وہ دل کی سنتے ہوئے اس کے قریب چلا گیا اور وہ بھیڑ یاد ھمکی سمجھ کر اس پر غرایا۔ اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے اسے تھوڑار میلیکس رہنے کا اشارہ کیا، جسے دیکھ کر بھیڑیا تھوڑا پر سکون ہوا۔
".You are a good baby" : وہ بچہ اپنی معصوم آواز میں بولااس نے بھیڑیے کی زخمی ٹانگ کی طرف دیکھا جس میں ایک لکڑی کا حصہ گھسا ہوا تھا۔ اس نے بھیڑیے کے سر اور پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور آرام سے لکڑی کو اس کی ٹانگ سے نکال دیا۔
اب بھیڑیا جیسے اس لڑکے سے مانوس ہو گیا اور اس کی گود میں اپنا سر رکھ گیا۔ وہ لڑکا مسکرایا اور اپنی شرٹ اتار کر بھیڑیے کی ٹانگ پر باندھنے لگا۔ "ہیلو، میں تیمور کا ظمی ہوں۔ کیا تم میرے بہترین دوست بنو گے ؟" اس کا لہجہ معصومیت سے چور تھا مگر کچھ تھا اس کے لہجے میں ۔ وہ بچہ ایک پل کے لیے چونکا، مگر پھر کچھ یاد آیا جو ڈر کے مارے کچھ دیر کے لیے بھول گیا تھا۔ وہ تکلیف سے آنکھیں میچ گیا۔ اس کی آنکھوں سے کچھ ننھے موتی زمین پر گرے اور جب آنکھیں کھولیں تو وہ سرخ انگارہ تھیں۔
" میں تم سب کو مار دوں گا میری ماں کی زندگی برباد کرنے کے لیے۔" اس کی آواز جتنی بچوں والی تھی، اس کا ارادہ اتنا ہی خطر ناک اور مضبوط تھا۔۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️

اٹھ گئی منت بیبی ؟ کھل گئی مہارانی کی آنکھ ؟ " تائی امی کی آواز گونجی۔ " ارے ابھی وقت ہی کیا ہوا ہے تائی امی؟ صبح کے چھ ہی تو بجے ہیں، سو جاؤا بھی تک تو تمہارا سورج طلوع ہی نہیں ہوا ہے بیبی ۔۔۔۔۔
تائی امی جلی کٹی سنائی کمرے سے نکل گئیں۔ انتہائی امی ! میں تو صبح سے جاگ رہی تھی، آپ نے دیکھا ہی نہیں۔" منت منمنائی۔ " چٹاخ ! "" پری سی لڑکی ، زبان چلاتی ہے ؟ "تائی امی غصے سے آگ بگولہ ہو کر اس کے چہرے پر تھپڑ مار گئیں۔ " مجھے غلط کہتی ہے ؟ " نہیں تائی امی، میں نے آپ کو غلط نہیں کہا۔ "منت روتے ہوئے بولی۔ ماں باپ تو خود مر گئے، اس نامراد کو میرے پلے باندھ دیا۔ نہ کام کی نہ کاج کی ، دشمن اناج کی۔ چل بیبی راستہ ناپ اپنا، فٹافٹ ناشتہ لگا یہاں اور جاہنا کو جگا۔ "تائی امی اسے حکم جھاڑتی اپنے روم میں چلی آئیں۔ "
آپی اٹھ جائیں۔ "منت نے ہنا کو جگاتے ہوئے کہا۔ " منحوس کہیں کی ! کتنی بار کہا ہے اپنی یہ منحوس شکل صبح صبحمجھے مت دکھا یا کر ۔ اب میر اسارادن برا گزرے گا۔
کس نے بھیجا ہے تجھے میرے کمرے میں ؟ امی نے بھیجا ہے نا تجھے ؟ آج میں امی کی خبر لیتی ہوں۔ کتنی بار کہا ہے صبح صبح اس منحوس کو میرے کمرے میں نہ بھیجا کریں، لیکن پھر بھی یہ منہ اٹھا کر چلی آتی ہے۔ کر ایک تو پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو کھا گئی اور اب ہمارے گلے پڑ گئی ، اب ہماری جان کی دشمن بنی ہے۔ " ہنا کے چلانے کی آواز باہر آرہی تھی۔ ہر کو تھی۔ ہر کوئی اس بیچاری پر ایسے ہی اپنی بھڑاس نکالتا تھا۔ اس گھر میں منت کی
صبح ایسے ہی ہوتی تھی کیونکہ اس گھر میں اس کی یہی اوقات تھیمنت جب آٹھ سال کی تھی اس کے ماں باپ ایکسیڈنٹ میں مر گئے اور منت کو اس کے تایا کے حوالے کر دیا گیا۔
منت بہت معصوم اور خوبصورت تھی۔ جو ایک بار اسے دیکھ لے نظر ہٹانا بھول جائے۔ ہیزل گرین آنکھوں والی گڑیا، سرخ سفید رنگت، سرخ گلابی ہونٹ پر تل، چھوٹی سی کھڑی ناک، لمبے گھنے کمر تک آتے بال، پانچ فٹ سے نکلتا قد ؛ وہ بے انتہا خو بصورت تھی۔ایسا لگتا تھا قدرت نے اسے بہت خوبصورتی سے تراشا تھا۔ اس گھر میں واحد تا یا ابو تھے جو اس کے اپنے تھے، جنہوں نے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ سات سال تک وہ گھر میں رانی بن کر رہی لیکن اس کے بعد تا یا ابو کو فالج مار گیا اور پھر اس پر ہوا یہ ظلموں کا سلسلہ۔
تا یا ابواب اس کے لیے آواز نہ اٹھا سکتے تھے اور باقی سارے خاندان میں کسی کی اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ ایک یتیم کا بوجھ اٹھا سکے۔ منت ناشتہ لگاتے وقت اپنے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جبکہ تائی امی اور ہنا ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے ، کیونکہ آج بھی اس کے دل کو تکلیف دے کر انہوں نے اپنے دل کو تسکین پہنچائی تھی۔
ناشتہ میز پر لگانے کے بعد منت کچن کے کونے میں دبک کر بیٹھ گئی۔ اس نے ابھی تک اپنے لیے ایک نوالہ بھی نہیں توڑا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر تائی امی نے اسے پہلے کھاتے دیکھ لیا۔ تو ایک نیا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ تائی امی اور بہنا ہنسی مذاق کرتے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے جبکہ منت کی نظریں بار بار تا یا ابو کے کمرے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔

   ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️