Wheshat he Wheshat - 9 in Urdu Crime Stories by naazwriter books and stories PDF | Wheshat he Wheshat - 9

Featured Books
  • ಒಂಟಿ ಹಕ್ಕಿಯ ಹಾಡು

    ಬೆಂಗಳೂರಿನ ಸದಾ ಗದ್ದಲದ ಸಿಲಿಕಾನ್ ಸಿಟಿ ಮಧ್ಯೆ, ಹಳೆಯ ಬಸವನಗುಡಿ ಬಡಾವ...

  • ಅಭಿನಯನಾ - 23

       ಪ್ರಿಯಾ,,, ಸೂಪರ್ ಮಾರ್ಕೆಟ್ ಹತ್ತಿರ ನಿರಂಜನ್ ಮೇಘ ಇಬ್ಬರು ಕೂತು ಮ...

  • ಅಧ್ಯಾಯ 16: ಕೃಷ್ಣ vs ಕಾಳಿಂಗ

    ಸಿಲಿಕಾನ್ ಸಿಟಿಯಲ್ಲಿ ಸೈಬರ್ ಸೂತ್ರಧಾರ, ಕೃಷ್ಣನ ಕಛೇರಿಯಲ್ಲಿ ಹೊಸ ಸವಾ...

  • ಸಂತೃಪ್ತ ಬದುಕು

    ಮಂಗಳೂರಿನ ಅಂಚಿನಲ್ಲಿರುವ ಆ ಪುಟ್ಟ ಹಳ್ಳಿಯ ಹೆಸರು ನೀಲತೀರ. ಅಲ್ಲಿನ ಗಾ...

  • ಮೌನ ಸಂಘರ್ಷ

    ರಾಜಶೇಖರ್ ಇವತ್ತು ಭಾನುವಾರ ಬೆಳಿಗ್ಗೆ ಬೆಳಿಗ್ಗೆನೇ ನೆಮ್ಮದಿ ಹಾಳಾಯಿತು...

Categories
Share

Wheshat he Wheshat - 9

( وحشت ہی وحشت ہی قسط نمبر 9)     

حیا:۔۔۔۔۔۔۔۔

"بڑے آئے ہیں میرے نخرے اٹھانے والے،

 جلی ہوئی روٹی کو پیزا بتانے والے!"

 "زران جی! ذرا اپنی حد میں رہیں آپ،

 ہم ہیں نخروں کے محلوں میں رہنے والے!"

ڈانس اور دھمال۔۔۔۔
زران نے حیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک چکر (Spin) دے

کر اپنے قریب کھینچا۔ سب کی تالیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ زران نے حیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال

کر شرارت سے کہا:

زران: "حیا! یہ جو تم سب کے سامنے اتنا اترا رہی ہو، کل صبح جب میں دیر سے جاگنے پر ناشتہ مانگوں گا،

تب تمہاری یہ ساری اکڑ کہاں جائے گی؟"

حیا: (ناک چڑھاتے ہوئے) "تب میں آپ کے اوپر ٹھنڈا پانی ڈال دوں گی! سمجھے آپ؟"

زران نے ہنس کر حیا کے گال پر ہلکی سی چٹکی بھری۔ "ظالم بیگم! اتنا تشدد؟ تیمور بھائی، دیکھیں آپ کی

سالی صاحبہ مجھ پر کتنا ظلم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔"

تیمور، جو اسٹیج کے ایک ستون سے ٹیک لگائے یہ سب دیکھ رہا تھا،

اس کے لبوں پر بھی ایک نایاب مسکراہٹ آگئی۔ اس نے

منت کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر زران اور حیا

کی یہ خوشی دیکھ کر سکون آگیا تھا۔

آخری دھماکہ خیز پرفارمنس۔
زران نے اب سب کو اسٹیج پر بلایا اور مشہور گانے پر

ڈانس شروع کیا۔۔:

"لو چل دی رے،

 مہندی کی یہ رات آئی۔۔۔۔۔۔۔۔، 

خوشیاں ہزاروں اپنے سنگ لائی۔۔۔۔!"

زران نے حیا کو اپنی طرف گھمایا اور دونوں نے مل کر

ایک زبردست ڈانس پرفارمنس دی جس نے پوری محفل

میں آگ لگا دی۔ ڈانس کے آخر میں زران نے گھٹنوں کے

بل بیٹھ کر حیا کے سامنے ہاتھ پھیلایا، جیسے وہ اسے دوبارہ پروپوز کر رہا ہو۔

حیا: (جذباتی ہو کر) "آپ واقعی پاگل ہیں زران۔"

زران: "صرف تمہارے لیے حیا! صرف تمہارے لیے۔"

مہندی کا جشن اپنے جوش پر تھا کہ اچانک ہال کے

بڑے دروازے پر تین سائے نمودار ہوئے۔ یہ منت کے تایا، تائی اور ان کی بیٹی حنا تھی ۔

پورے ہال میں ایک دم خاموشی چھا گئ۔۔
۔
تیمور کی نظریں ان پر پڑتے  سرد ہو گئیں۔۔۔۔۔۔،
اسے منت پر کیے گئے ظلم یاد آ گئے۔

معجزہ اور ندامت: سب سے زیادہ حیرت منت کو ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اس کے تایا،

جو فالج کی وجہ سے بستر سے لگے تھے، اب اپنے پیروں پر کھڑے تھے۔

اللہ نے انہیں صحت عطا کی تھی اور اس صحت کے
ساتھ ہی تائی امی کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہو گیا تھا۔

تائی اور حنا کی گریہ و زاری: ۔۔

تائی بھاگتی ہوئی آئیں اور منت کے پیروں میں بیٹھنے لگیں، ان کی آنکھوں سے پچھتاوے کے آنسو بہہ رہے تھے۔

تائی: "منت بیٹی! ہمیں معاف کر دو۔
ہم نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا، لیکن اللہ نے ہمیں ہماری اوقات دکھا دی ہے۔
ہمیں گھر سے مت نکالنا بیٹی۔۔۔۔۔۔!"

حنا: (منت کا ہاتھ پکڑ کر) "منت، میں ہمیشہ تم سے

حسد کرتی رہی، لیکن آج تمہاری خوشی دیکھ کر مجھے اپنی اوقات سمجھ آ گئی ہے۔ پلیز مجھے اپنی بہن سمجھ کر معاف کر دو۔"

منت کا ظرف: منت، جس کا دل پہلے ہی بہت نرم تھا، اپنے تایا کو تندرست دیکھ کر جذباتی ہو گئی۔

اس نےتائی کو اٹھا کر گلے لگایا تائی  امی آپ مجھ سے معافی نہ   مانگے آپ مجھ سے بڑی ہے۔۔۔۔۔۔

میری ماں کے درجے پر ہیں اور مائیں بیٹیوں سے معافی مناگتے اچھی نہیں لگتی میں نے آپ سب کو معاف کیا تایا ابو نے منت کے سر پر ہاتھ رکھا۔

منت: "تایا ابو! آپ ٹھیک ہو گئے، میرے لیے اس سے بڑی خوشی کی بات اور کیا ہوگی؟

میں نے آپ سب کو دل سے معاف کیا۔ آج میری مہندی ہے، اور میں نہیں چاہتی کہ میرے اپنوں میں سے کوئی
اداس ہو۔۔۔

زران نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے تالی بجائی:
"چلو بھائی! اب جب صلح ہو گئی ہے۔۔۔۔۔

تو تایا ابو بھی دو ٹھمکے لگائیں گے!" سب ہنس پڑے اور منت نے ضد کر کے انہیں نکاح تک وہیں رکنے پر مجبور کر دیا۔

اسی دوران، منت کی نظریں تیمور سے ٹکرائیں، جو اسے دیکھ کر خاموشی سے اشارہ کر رہا تھا کہ

"اب تمہاری باری ہے"۔ مہندی کی یہ رات حیا اور زران کی وجہ سے یادگار بن چکی تھی،

لیکن اب نکاح کی گھڑی قریب آ رہی تھی، جہاں جنون کا ایک نیا باب کھلنا تھا۔

(نکاح کی صبح:)۔۔

نور کا سماں۔۔۔۔۔

کاظمی ولا میں آج کی صبح ایک الگ ہی تقدس اور
رونق لے کر آئی تھی۔

سفید گلابوں اور موتیے کی خوشبو نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
آج دو نکاح تھے۔۔

ایک محبت کا اعتراف (زران اور حیا) اور دوسرا جنون
کی تکمیل (تیمور اور منت)۔

بارات کا استقبال: استنبول کا جادو۔۔۔۔

استنبول کے سب سے مہنگے اور برانڈڈ ہوٹل "دی رٹز کارلٹن" (The Ritz-Carlton) کے باہر آج تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔

ہوٹل کا وسیع و عریض ہال سفید سنگِ مرمر، قیمتی فانوسوں اور پیرس سے منگوائے گئے تازہ پھولوں سے مہک رہا تھا۔

باہر گاڑیوں کا ایک طویل کارواں رکا۔
سب سے آگے کالے رنگ کی چمکتی ہوئی "رولز رائس" (Rolls Royce) تھی جس سے تیمور کاظمی اترا۔

سفید شیروانی، ہاتھ میں قیمتی نگینوں والی تلوار اور چہرے پر وہ مخصوص رعب۔۔۔۔
وہ دولہا نہیں بلکہ کسی سلطنت کا بادشاہ لگ رہا تھا۔

دوسری طرف زران اپنی اسپورٹس کار سے اترا،
جس نے ڈیزائنر واسکٹ اور کلاسک سوٹ میں سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔۔۔۔

ترکی کے روایتی بینڈ نے اونچی دھنوں میں بارات کا

استقبال کیا اور فضا میں نوٹوں کی بارش ہونے لگی۔

دلہنوں کا روپ۔۔۔۔۔

حیا نے سرخ اور سنہری رنگ کا بھاری کام والا لہنگاپہنا تھا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ہمیشہ رہنے والی شرارت آج شرم وحیا میں بدل چکی تھی۔

دوسری طرف منت تھی، جس نے سفید اور پستئی رنگ کا نفیس لباس زیب تن کیا تھا،
جس پر چاندی کے تاروں کا کام اس کے حسن کو کسی پری زاد جیسا بنا رہا تھا۔

جب دونوں دلہنیں سہارا لیے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھیں۔۔۔۔۔۔،

تو دیکھنے والوں کی سانسیں رک گئیں۔

منت کی آنکھوں میں ابھی بھی تیمور کے نام کی ۔۔۔۔

دہشت اور محبت کی ملی جلی کیفیت تھی۔

دونوں دلہنوں کو اسٹیج پر لے جیا گیا۔۔۔۔۔۔

زاران نے جلدی سے حیا کا ہاتھ تھاما کہیں وہ انکار ہی نہ کردے۔۔۔۔۔۔
حیا نے شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ زاران کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔۔
زاران نے حیا کو آنکھ ماری پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف تیمور نے اپنا ہاتھ آگے کیا منت نے تیمور کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔۔۔

تیمور نے منت کا ہاتھ اپنے ہاتھوں زور سے پکڑا کی
منت کی آنکھیں نم ہو گئ تم میری ہو۔۔۔ 

منت تم میرا جنون ہو میری ملکیت۔۔۔۔

میں آپ کی ہی ہو ۔۔۔۔۔
 کیا بات ہے بھائی آج بھابھی کو  بیٹھانے کا ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

تیمور نے زاران کو مو ضوئ غصے سے گھوڑا۔۔۔۔۔
زاران بیچارا منمنا کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔

تیمور نے منت کو سہارا دیا اور اسے اپنے ساتھ بیٹھا 
یا۔۔۔