Wheshat he Wheshat - 2 in Urdu Love Stories by naazwriter books and stories PDF | Wheshat he Wheshat - 2

Featured Books
Categories
Share

Wheshat he Wheshat - 2

     وحشت ہی وحشت
 قسط نمبر (2)
   تایا ابو جو کبھی اس کے لیے ڈھال تھے، اب خود بے.       بسی کی تصویر بنے بستر پر پڑے تھے۔ منت نے ہمت جمع کی۔ اور ایک پیالی میں دلیا ڈال کر خاموشی سے تایا ابو کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ " کہاں جارہی ہو بیبی ؟ "تائی امی کی ایک کرخت آواز نے اسے وہیں روک دیا۔ تایا ابو کو ناشتہ کروانے۔ " منت نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ رکھ دوا سے یہیں ، ہنا چلی جائے گی۔ تو جا کر کپڑے دھو ، آج ڈھیر لگا ہوا ہے پچھلے صحن میں اور خبر دار جو کام چوری کی۔ "تائی امی نے حکم صادر کیا۔ منت خاموشی سے صحن کی طرف چل دی۔ جہاں سردی کی لہریں اس کے نحیف جسم کو چیر رہی تھیں۔ جیسے ہی اس نے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالا اس کی آنکھوں سے۔ آنسو بہہ نکلے ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اس کی پوری زندگی اسی طرح دوسروں کی ٹھوکریں کھاتے گزرے گی؟ ابھی وہ کپڑے دھو ہی رہی تھی کہ باہر کا دروازہ زور سے بجا اور ہنا کی چیخنے کی آواز آئی۔۔۔
۔ تائی امی کا کوئی دور کارشتہ دار جو شہر میں بڑا اثر ورسوخ رکھتا تھا، اچانک آپہنچا تھا۔ اس شخص کی نظریں منت پر پڑیں تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آگئی۔ وہ منت کی معصومیت اور خوبصورتی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا، لیکن منت کو اس کی نظروں میں ایک چھپا ہوا خوف محسوس ہوا۔
اسی رات جب گھر کے سب لوگ سو گئے ، منت تایا ابو کے پاؤں دبانے ان کے پاس گئی۔ تایا ابو کی آنکھوں میں آنسو تھے ، وہ بول تو نہیں سکتے تھے لیکن ان کی نظریں منت سے معافی مانگ رہی تھیں۔ منت نے ان کا ہاتھ چوم کر کہا: "تایا ا بو ! آپ فکر نہ کریں، اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ " لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ تائی امی اور وہ شہر والا مہمان ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر منت کی زندگی کا ایک نیا اور خطر ناک۔ فیصلہ کر رہے تھے، جس سے منت کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔ ترکی کی سرد راتیں اور (منت کی آزمائش )
ترکی کے شہر استنبول کے ایک قدیم اور خستہ حال محلے میں ، جہاں سرد ہواؤں کی سرسراہٹ کانوں میں سیٹیاں بجاتی تھی، منت اپنی تائی امی کے گھر کے ایک چھوٹے سے تہہ خانے (Basement) والے کمرے میں رہتی تھی۔ ترکی کی شدید برف باری شروع ہو چکی تھی، لیکن منت کے پاس تن ڈھانپنے کے لیے کوئی گرم اونی چادر تک نہ تھی۔ تائی امی اور بنانے اسے گھر کی ملازمہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ اس دن جب شہر سے وہ خاص مہمان آیا، اس کا نام ارسلان تھا۔ ارسلان کا تعلق ترکی کے ایک بڑے کاروباری گھرانے سے تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہ تھی جو ایک بھلے مانس انسان کی ہوتی ہے۔
منظر کشی :
شام کا وقت تھا، استنبول کی نیلی مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز گونج رہی تھی۔ منت کھڑکی سے باہر گرتی برف کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک تائی امی اندر داخل ہوئیں۔ اوئے لڑکی ! سن۔ کل ارسلان صاحب کے گھر ایک بڑی تقریب ہے ، انہیں وہاں کام کے لیے ایک سلیقہ مند لڑکی چاہیے۔ میں نے تیرا نام دے دیا ہے۔ تائی امی نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
منت کا دل ڈوبنے لگا۔ لیکن تائی امی، میں اکیلی وہاں کیسے جاؤں گی ؟ اور تایا ابو کی دیکھ بھال کون کرے گا؟" زبان مت چلا ! " تائی امی نے اسے جھڑ کا ۔ " تیرا یہاں رہنا ہمیں پہلے ہی بھاری پڑ رہا ہے، اب کچھ کما کر لائے گی تو اس گھر میں تیرا دانہ پانی چلے گا۔"۔۔۔۔۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
کہانی میں نیا موڑ :
اگلی صبح ، منت کو ایک پرانی کوٹ میں لپیٹ کر ارسلان کے عظیم الشان محل نما گھر (Villa) بھیج دیا گیا۔ وہ گھر باسفورس (Bosphorus) کے کنارے واقع تھا، جتنا وہ گھر باہر سے خوبصورت تھا، اندر سے اتناہی پر اسرار۔
وہاں کام کرتے ہوئے منت کی ملاقات ایک بوڑھی ترک خاتون سے ہوئی جو وہاں کی باور چن تھی۔ اس نے منت کو دیکھتے ہی چونک کر پوچھا، "تمہاری آنکھیں ... تمہاری آنکھیں تو بالکل اس شہزادے جیسی ہیں جو سالوں پہلے یہاں سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ "
منت حیران رہ گئی ۔ اسے اپنے والدین کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ اسے یتیم چھوڑ گئے تھے۔ کیا منت کا تعلق کسی بڑے ترک خاندان سے تھا ؟ کیا اس کی تائی امی نے اس کی حقیقت چھپائی ہوئی تھی ؟
رات کے اندھیرے میں ، جب منت اس بڑے ولا کے ایک کمرے کی صفائی کر رہی تھی، اس نے ایک بند دروازے کے پیچھے سے کسی کے کراہنے کی آواز سنی۔ تجس کے مارے اس نے جب دروازے کی دراڑ سے اندر جھانکا، تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ وہاں کوئی قید تھا ... اور وہ شخص کوئی اور نہیں، بلکہ تیمور کا ظمی کی تصویر سے مشابہت رکھنے والا کوئی جوان تھا !
تیمور کا ظمی : استنبول کا بے تاج بادشاہ۔ برسوں پہلے کا وہ معصوم بچہ ،
جو ترکی کے جنگلوں میں بھیڑیوں کے ساتھ پناہ لینے پر مجبور تھا، اب ایک آتش فشاں بن چکا تھا۔ تیمور کا ظمی اب دنیا کی نظر میں ایک کامیاب بزنس مین تھا، لیکن زیر زمین دنیا (Underworld) میں اسے " سیاہ بھیٹر یا " کہا جاتا تھا۔ اس کا کار و بار دبئی کے صحراؤں سے لے کر ترکی کے پہاڑوں تک پھیلا ہوا تھا۔ تیمور کارائٹ ہینڈ :"زران"
تیمور کا سب سے بھروسہ مند ساتھی اور اس کا دایاں ہاتھ "زران " تھا۔ زران ایک خاموش طبع لیکن انتہائی سفاک انسان تھا، جو تیمور کے ایک اشارے پر کسی کی بھی گردن اڑا سکتا تھا۔ وہ صرف تیمور کا وفادار نہیں تھا، بلکہ وہ تیمور کے ہر اس راز کا محافظ تھا جو اس نے دنیا سے چھپا کر رکھا تھا۔
        تیمور اس گھر (ویلا) میں کیوں آیا تھا ؟
جس گھر میں منت کام کر رہی تھی، تیمور وہاں کسی دعوت کے لیے نہیں، بلکہ اپنا حساب برابر کرنے آیا تھا۔ ارسلان (جس کے گھر منت کو بھیجا گیا تھا) دراصل ان لوگوں کا حصہ تھا جنہوں نے برسوں پہلے تیمور کی ماں کی زندگی برباد کی تھی اور اسے سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا تھا۔