بہت مقدور ہوں میں پر تصور ہی نہیں ملتا
تلاشِ ذات میں نکلا ہوں، مصور ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
مری آنکھوں کے صحرا میں بھٹکتی ہے تھکن پیہم
جو پیاسِ روح کو بھر دے، وہ ساغر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
میں کس دیوارِ گریہ پر لکھوں اپنے مقدر کو
کسی بھی شہرِ الفت میں کوئی در ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
کئی رستے نکلتے ہیں مری وحشت کے اندر سے
مگر جو پار لے جائے، وہ رہبر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
میں اپنی ہی ادھوری گفتگو کا ایک حصہ ہوں
مگر جو تکمیل تک پہنچائے، وہ محور ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
ہوائیں مجھ سے پوچھیں ہیں میرا نام اور میرا مسکن
مگر اس بھیڑ میں اپنا کوئی گھر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
بہت سے خواب پلکوں کی منڈیروں پر سسکتے ہیں
انہیں تعبیر دے پائے، وہ پیکر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
میں پتھر بن گیا ہوں یا یہ دنیا ہی سنگ دل ٹھہری
جو میرے کرب کو سمجھے، وہ دلبر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
سفر در پیش ہے لیکن عجب بے سمت وحشت ہے
سرا ملتا ہے رستوں کا، مگر سر ہی نہیں ملتا
۔۔۔۔
رضی عجب لاحاصلی کی آگ میں جلتا ہے میرا جی
سکوں جس میں میسر ہو، وہ منظر ہی نہیں ملتا